محترم محمد ثقلین ڈوگر

خواتین کو کام کی جگہ ، فیکٹری ،ہسپتال ،سکول یا کسی نجی ادارے میں اکثر اوقات ہراساں کیا جاتا ہے ، بےروزگار ہونے کے ڈر سے خواتین خاموش رہتی ہے ، خواتین کو اپنی آواز بلند کرنی چاہیے ، ہراساں کرنے پر فورا پنجاب میں صوبائی خاتون محتسب پنجاب اس پر فوری کارروائی کرکے متعلقہ افسر ( سرکاری یا نجی ) کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز ہے ، مختلف علاقوں میں روزگار دینے کی آڑ میں بھی خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے ، حکومت کی جانب سے تمام سرکاری و نجی دفاتر میں حراساں ہونے کا قانون پرنٹ یا فلیکس کی صورت میں دفاتر میں اس جگہ لگانے کا پابند ہے جہاں ہر کوئی آسانی سے پڑھ اور دیکھ سکیں ، آپ بھی اپنے اردگرد موجود سرکاری و نجی دفاتر کو دیکھیں جس میں حراساں کرنے کا قانون اور سزا کو واضح طور پر نہ لگایا گیا ہو فوراً رپورٹ کریں تاکہ اس آگاہی مہم میں آپ بھی ہمارا ساتھ دیں ۔ تشدد اور ہراسانی سے پاک ماحول ہر ملازم پیشہ خواتین کا بنیادی حق ہے ، اپنے حق کےلیے آواز اٹھائیں اور جدوجہد کریں ، اور ہماری اس آگاہی مہم کا حصہ بنیں تاکہ آپ کو کام کے جگہ پر محفوظ اور پرسکون ماحول میسر ہو ۔